saurduacademy.com

Mummy Dady Bachy

اکثر ہمارے معاشرے میں کچھ بچوں کو “ممی ڈیڈی ” کہہ کر مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس غیر رسمی اصطلاح کا استعمال عموماً اُن بچوں کے لیے کیا جاتا ہے جو والدین کے انتہائی فرمانبردار ہوتے ہیں اور اپنے معاملاتِ زندگی میں والدین کی رضا کو اہمیت دیتے ہیں، ایسے بچوں کے لیے یہ الفاظ طنز کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں،

اگرچہ والدین کی محبت توجہ اور اچھی تربیت پانے والے بچے عموماً با ادب، خوش اخلاق اور با کردار ہوتے ہیں، پر افسوس ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ان بچوں کی شرافت، اچھے اخلاق، اور فرمانبرداری کو بے وقوفی اور کمزوری کا نام دیا جاتا ہے۔

معاشرے کے اس غیر مناسب رویے کے سبب اس سوچ کے زیرِ اثر بعض نوجوان، والدین کی اطاعت کو کمزوری سمجھتے ہوئے اس ممی ڈیڈی چھاپ سے بچنے کے لیے خود کو ” آزاد مزاج ” کہہ کر اپنی خودمختاری پر فخر کرتے ہیں،  مگر اس خودمختاری کی آڑ میں ان نوجوانوں کا والدین کے ساتھ بد تمیزی کرنا ان کی نافرمانی ان سے بدسلوکی اور انہیں ذہنی اذیت دینا عام ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری جانب والدین کا احترام کرنے والے ان کی رہنمائی کو اہمیت دینے والے فرمانبردار نوجوانوں کو “ممی ڈیڈی” کہہ کر طنز کا نشانہ بنانا یہاں تک کہ انہیں والدین سے محبت اور احترام کے رویے پر شرمندہ کیا جانا بھی رواجِ عام ہے۔

درحقیقت، بعض افراد اپنی تربیتی کوتاہیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے، دوسروں کے با اخلاق بچوں کو طنزیہ طور پر “ممی ڈیڈی” کہہ کر خود کو نفسیاتی تسلی دیتے ہیں۔

چند افراد کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے نے معاشرے کو جو اخلاقی نقصان پہنچایا ہے اس کی تلافی اب مشکل نظر آتی ہے، بدقسمتی سے معاشرے میں موجود زیادہ تر بد تہذیب، بد کردار اور گمراہ افراد اسی سوچ کے پروردہ ہیں، جو خود کو “ممی ڈیڈی” کی چھاپ سے بچانے کے لیے والدین کی نافرمانی اور اخلاقی برائیوں کو اپنی عادت بنا بیٹھے۔

یہ افراد تربیتی عمل میں کوتاہی کے سبب مؤثر رہنمائی سے محروم رہ گئے، جس کے نتیجے میں وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہ سیکھ سکے، تربیت کے نازک مرحلے پر جہاں انہیں فرمانبرداری جیسے اوصاف سکھائے جانے چاہیے تھے، وہاں فرمانبرداری کو منفی رویے کے طور پر پیش کیا جانا ان کی اخلاقی پستی کا سبب بنا۔

ہمیں بحیثیتِ قوم اور بحیثیتِ انسان یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی فرمانبرداری کو کمزوری سمجھا جائے یا یہ وہ صفت ہے جو شخصیت کو نکھارتی ہے؟
“ممی ڈیڈی بچے” کہنا اگرچہ عام سا جملہ لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے چھپی منفی سوچ معاشرتی زوال کو جنم دے سکتی ہے۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ والدین کے زیر سایہ پروان چڑھنے والے زمانے کے زیر اثر پرورش پانے والوں سے بہتر ثابت ہوتے ہیں، مہذب اور با اخلاق بچے ہی آگے چل کر ایک مہذب معاشرہ تشکیل دیتے ہیں، اور ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی ہی ایک بہتر معاشرے کی بنیاد ہے۔

ہمیں شائستگی، تہذیب، اور والدین کے احترام کو کمزوری نہیں، بلکہ مثال بنانا چاہیے تاکہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اخلاقی برائیوں سے بچا سکیں اور معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ دے سکیں۔

یہاں “ممی ڈیڈی” اور “آزاد مزاج” کہہ کر بعض افراد کے عام رویوں کا موازنہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ معاشرے کو “ممی ڈیڈی” بچوں کی نہیں بلکہ بدتمیزی اور خودسری کو بڑھاوا دینے والے “غیر ممی ڈیڈی” کلچر کی فکر ہونی چاہیے۔

تاہم یہ بات قابلِ وضاحت ہے کہ وہ آزاد مزاج افراد، جو اپنے والدین کے ساتھ محبت اور احترام کا رشتہ رکھتے ہیں اور اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے ہیں، اس بحث کا حصہ ہرگز نہیں ہیں۔ اسی طرح وہ فرمانبردار افراد بھی اس بحث سے مستثنیٰ ہیں جو والدین کی اطاعت میں اس حد سے گزر جاتے ہیں کہ بعض اوقات دانستہ طور پر سنگین غلطیاں تک کر جاتے ہیں۔

اس تحریر کا مقصد ایک منفی معاشرتی رویّے کی طرف مثبت سوچ کے ساتھ توجہ مبذول کرانا ہے، کومنٹس میں اپنی قیمتی رائے کا ضرور اظہار کیجئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to Top